پھر ایک بار

 یہ سین کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔ 16 سالہ شادی شدہ زندگی میں کوئی ایسی عید،۔خاندانی اجتماع، خوشی/ شادی نہیں گزری تھی کہ جب سب اکھٹے ہو جاتے ہوں، اور میں ان کو ہنستی ،مسکراتی یا confidently

 بات کرتے نظر آتی ہوں؛ تو یہ عین اسی وقت کسی معمولی بات پر بھڑک کر مجھے خاندان کے سامنے ذلیل کریں۔ ذلیل بھی ایسا ویسا نہیں ؛ بھرپور ایسا جس میں اگر صحیح لفظوں میں کہا جاۓ تو ایسا جیسے کسی کے بھی محفل میں کپڑے اتار دیے ہوں، اور سب اس کے ننگے بدن کو دیکھ رہے ہوں، الزامات ایسے کہ انسان حیرت میں پڑ جائے کہ یہ انسان ابھی تو میرے ساتھ ٹھیک تھا، ابھی تو میرے ساتھ تھا۔ابھی تو کہہ رہا تھا میں کھڑا ہوں تو تمہاری وجہ سے۔ تم میرا سہارا ہو۔میں تم سے راضی ہوں۔ جو پیسے نکال نکال کر دےکہ آپ کی بہنیں آئی ہیں ۔  پھر  ، پوری محفل جس میں لوگ باتیں کر رہےتھے، خوش تھے، مایوس میں بدل جاتی ہے؛ ہر کوئی بس اس بھری محفل میں کپڑے اتارنے والے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ ہر بار مزید improvement.

اس بار تو گالیاں بھی تھیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سب کرنے والا اسی کو ظالم کہہ رہا تھا جس کو گالیاں دے رہا تھا۔ پھر سر پکڑنا، واویلا کرنا مجھے اس سے بچا لو یہ عورت اپنے بچوں کے لیے گھر بنا رہی ہے۔ سارے دن میں ایک بار خبر کی غرض سے پوچھنے کو دن رات کی ذلالت قرار دینا۔ گالیوں کی بوچھاڑ میں ہمہ وقت مظلوم، بد قسمت ، سب کی توجہ اور ہمدردی کا مرکز ، سب سے بڑھ کر یہ کہ "دیکھو یہ میں ہوں، میں فلاں کی طرح نہیں جو بیوی کو بولنے دے، دیکھو میں نے کیسے دبا کر رکھا ہوا ہے۔ ایسے رکھتے ہیں دبا کر" ۔ ہاں یہ اعلی مردانہ صلاحیت ثابت کرنے کا اس سے بہترین موقع کیا ہو سکتا ہے۔

 پھر ایسے مظلوم ، مجبور اور جرات مند مرد کی مردانگی کو سلام کرنے اور اس کی درد مندی کرنے کچھ اور مرد آگے بڑھتے ہیں۔ اور اس عورت کو جو اپنی اتاری گئی عزت کے ٹکڑے دیکھ رہی تھی، اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیسے انہیں اکھٹا کیا جائے ؛ مزید الزامات، آواز اور لہجوں کے رعب، اپنی مردانگی کے کوڑے سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلسل وہ مظلوم ان کی آواز میں آواز ملاتا ہےاس عورت کے خلاف جو اس کے بچوں کے لیے چھت کے انتظام میں دن رات خود کو بوڑھا کر رہی ہے، کما کر، پڑھ کر، بچا کر، پائی پائ جوڑ کر۔ بچوں کے کپڑوں پر کیا خرچ ہوتا ہے، کیسے بنتے ہیں اس کو نہیں پتا۔ اس کے اپنے کپڑے ،بنیانیں، جرابیں جو اسے الماری میں پڑی ملتی ہیں ، وہ نہیں جانتا ۔ اس کے کھانے پینے، پہننے،  صحت، رشتہ داری کو چلانا۔۔۔۔ لیکن اس عورت کا کوئی وصف اسے بچا نہیں سکا تھا۔ پاس کھڑی بہنوں کو بھی بھائ کا بہت درد آیا۔ " مرد بول رہے ہیں، آپ کو نہیں بولنا چاہیے، کچھ نہ کہیں" ضبط کو بمشکل تھامے، ہر طرف بکھرے اپنی عزت کے چھیچھڑے سمیٹتے وہ الفاظ کیا تھے جو جوابا کہے گئے۔ لیکن کسی باپ، ماں، چچا ، بہن  نے یہ نہیں پوچھا" اتنی گالیوں کی بوچھاڑ کس بات پر؟ الزامات میں کیا سچائی ہے؟ یہ شخص جو مظلومیت کا رونا رو رہا ہے؛ اس کا زندگی میں حقیقتاً کیا کردار ہے، یہ جو ہمیشہ اپنے بیوی بچوں کو الگ اور ذلیل کرتا ہے ؛ اس کے کیا نفسیاتی مسائل ہیں۔ اس کو ایک ایسے گھر میں جہاں وہ رہتا نہیں، وہاں کیوں توجہ، ہمدردی اور مرکز بننا چاہتا ہے؟ جو اپنے کسی بھی۔ مسئلے کا حل نہیں کر سکا وہ سب الزامات کی بلی پر ایک عورت کو چڑھا کر دوسروں کے مسائل کا نجات دہندہ کیوں بننا چاہتا ہے۔ کسی  نے نہیں پوچھا, " تم ہمیشہ تماشہ لگاتے ہو، ہمیشہ ہی لگاتے ہو، کسی بڑی وجہ کے بغیر، کسی خاص بات کے بغیر... تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ کون سی بہادری ہے یہ؟ " خاموش ہونے والوں اور کرانے والوں میں سوچ ہو تو وہ خاموش نہ ہوں اور پاس ایک بچے کو کہا جا رہا تھا" اپنی ماما کو سمجھانا"- جو بندہ اپنا نہیں ، اپنی بیوی بچوں کا نہیں۔۔ دوسروں کو دیکھ کر ہوش و حواس کھو دینے والے آدمی ، اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اپنے ہرم برے حالات کی واحد مخلص ساتھی کو ذلیل کرنے والے آدمی کو کوئی کہے تم اس بدتر حال میں کیونکر پہنچے تو اس کا جواب قدرت کی طرف سے یہ ہی ہوتا ہے" تم وہی بنے ہو جو تم نے اپنے لیے کیا"-

Comments

Popular posts from this blog

وفا

Hatred