Posts

پھر ایک بار

 یہ سین کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔ 16 سالہ شادی شدہ زندگی میں کوئی ایسی عید،۔خاندانی اجتماع، خوشی/ شادی نہیں گزری تھی کہ جب سب اکھٹے ہو جاتے ہوں، اور میں ان کو ہنستی ،مسکراتی یا confidently  بات کرتے نظر آتی ہوں؛ تو یہ عین اسی وقت کسی معمولی بات پر بھڑک کر مجھے خاندان کے سامنے ذلیل کریں۔ ذلیل بھی ایسا ویسا نہیں ؛ بھرپور ایسا جس میں اگر صحیح لفظوں میں کہا جاۓ تو ایسا جیسے کسی کے بھی محفل میں کپڑے اتار دیے ہوں، اور سب اس کے ننگے بدن کو دیکھ رہے ہوں، الزامات ایسے کہ انسان حیرت میں پڑ جائے کہ یہ انسان ابھی تو میرے ساتھ ٹھیک تھا، ابھی تو میرے ساتھ تھا۔ابھی تو کہہ رہا تھا میں کھڑا ہوں تو تمہاری وجہ سے۔ تم میرا سہارا ہو۔میں تم سے راضی ہوں۔ جو پیسے نکال نکال کر دےکہ آپ کی بہنیں آئی ہیں ۔  پھر  ، پوری محفل جس میں لوگ باتیں کر رہےتھے، خوش تھے، مایوس میں بدل جاتی ہے؛ ہر کوئی بس اس بھری محفل میں کپڑے اتارنے والے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ ہر بار مزید improvement. اس بار تو گالیاں بھی تھیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سب کرنے والا اسی کو ظالم کہہ رہا تھا جس کو گالیاں دے رہا تھا۔ پھر ...

Hatred

 Do you feel the hatred panting in me? You have sown the seeds Now its thorns are growing into thy flesh  You can't escape it You sow them very next to you In thy bed This hatred would weather you grain by grain Sand by sand and you would know When deep waters will have turned their way When thy bulwark will have fallen apart I wonder how you owned such massive loath Perhaps when you kicked the one most loyal When you shit the face of love When you disgraced the one who cared Or when your calumny marred the face of truth When you disinterred the innocence  And dessicated it with denigration When you let your spite hissed  Uncontrolled, unleashed On one who was the most unarmed The most bewildered You earned this hatred in very moments And lost the hands that were all in prayers for you

Dusky Lids

Image
 Another sun is setting into abyss of aeons The speck of my life is dwindling  Let me know the secrets of Thy Love Before my existence levels down to earth Let me breaths tremble with thirst of Thy yearning Before this body counts them to moments Let me eyes sip in Thy glory Before my transient youth lose its cognition  Let my dusky lids close on your Eden When Thy sun completes its round And bows down Let it mention me to You, Before it kindles another day May 30, 2025

Why Together

Image
 Real life is like tight rope dancing. Two legs are bound to coordinate.

وہن ویلا

  کوڑی کوڑی پٹن آلے نیاز ونڈن بیٹھے نے ہوا دے  زور تو ڈگگن آلے بوٹے پھل چڑھون بیٹھے نے بانگاں بانگاں سدن آلے بنےآقا آسن مارے بیٹھے نے Jan 15, 2025

میری تصویر تیرا رنگ تھی

 اس نے چاہا کہ خود کو  مجھ سے چھین لے اس نے چاہا میری   پناہ گاہ ہی نہ رہے اس نے چاہا میرے محبت کے درخت پر نفرتوں کے بیر  اگیں اس نے چاہا یہ فقط سوکھ کر رہ جاۓ کب وہ اپنا ہوا کیاہوا جو میرا نہ ہوا اس نے چاہا بد گمانیوں کے رنگ سمیٹ کر میری نقش نقش میں بھر دے جھوٹ کی تہ بند میں لپیٹ کر مجھ کو سچ کی صدا لگاۓ  میری زندگی کی قبر کے سرہانے صبر کا کشکول اٹھاۓ اپنا سکہ سکہ گراۓ  4 January,2025

آہ

 دل پہ لکھنے بیٹھے ہیں حال ٹوٹی تمناؤں کے کچھ روکھی سوکھی یادوں کے کچھ ساۓمحروم تماشائیوں کے ٹھنڈی، تر شاموں میں دل کے پردہ خانوں میں ذات کے حجروں میں بند پلکوں سے کچھ پیچھے  آنکھوں کے تہ خانوں میں وقت کی سیاہی  جزبات کے صفحے اور  شعور کے قلم کی دلریز دھاروں کا  اے سبت لالہ! اپنی دلدل تو دیکھ فقط ہاتھ اور آہ رہ گۓ باقی                                                          متبسم