میری تصویر تیرا رنگ تھی
اس نے چاہا کہ خود کو مجھ سے چھین لے
اس نے چاہا میری پناہ گاہ ہی نہ رہے
اس نے چاہا میرے محبت کے درخت پر نفرتوں کے بیر اگیں
اس نے چاہا یہ فقط سوکھ کر رہ جاۓ
کب وہ اپنا ہوا
کیاہوا جو میرا نہ ہوا
اس نے چاہا بد گمانیوں کے رنگ سمیٹ کر
میری نقش نقش میں بھر دے
جھوٹ کی تہ بند میں لپیٹ کر مجھ کو
سچ کی صدا لگاۓ
میری زندگی کی قبر کے سرہانے
صبر کا کشکول اٹھاۓ
اپنا سکہ سکہ گراۓ
4 January,2025
Parveen Shakir - 2 (Masha Allah)
ReplyDelete