This is an endeavor on my part to handover what belongs to humanity.
The most valuable thing
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
The most valuable thing is inside me and l am the only thief for it.
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
Comments
Popular posts from this blog
دل پہ لکھنے بیٹھے ہیں حال ٹوٹی تمناؤں کے کچھ روکھی سوکھی یادوں کے کچھ ساۓمحروم تماشائیوں کے ٹھنڈی، تر شاموں میں دل کے پردہ خانوں میں ذات کے حجروں میں بند پلکوں سے کچھ پیچھے آنکھوں کے تہ خانوں میں وقت کی سیاہی جزبات کے صفحے اور شعور کے قلم کی دلریز دھاروں کا اے سبت لالہ! اپنی دلدل تو دیکھ فقط ہاتھ اور آہ رہ گۓ باقی
Another sun is setting into abyss of aeons The speck of my life is dwindling Let me know the secrets of Thy Love Before my existence levels down to earth Let me breaths tremble with thirst of Thy yearning Before this body counts them to moments Let me eyes sip in Thy glory Before my transient youth lose its cognition Let my dusky lids close on your Eden When Thy sun completes its round And bows down Let it mention me to You, Before it kindles another day May 30, 2025
ہاں میں نے زندگی کو دیکھا ہے مجھے کاٹتے ہوۓ عقل و خرد کے پٹا خے بناتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے اسے، رگوں کو درد سے بھرتے ہوئے دیکھی ہے میں نے اس کی قوت میرے اندر گہری کھائیاں کھود کر مجھے بحر بے کراں بناتے ہوئے اس میں موجیں و طوفان اٹھاتے ہوئے میں نے دیکھا ہے اسے تندرست جسموں، آسودہ حالوں کو بے حال، دھواں دھواں بناتے ہوئے ملی ہوں اس اپنی رفیق سے میں میری بے بسی، کرب، آہ و تمنا پہ مسکراتے ہوئے کبھی میری شعور کی کھڑکیوں کو کھولا ہے اس نے تو کبھی افلاک کی وسعتوں میں دھکیلا ہے کبھی باد نسیم کے جھونکوں سے مجھے چھیڑا ہے کبھی آکر چپ سی بیٹھ جاتی ہے میرے پاس یہ نہ بولتی، ںہ مسکراتی، نہ بتاتی ہے کہ میرے پاس یہ کیوں ہے- بس میری سانسیں مجھے گنواتی ہے کچھ آوازیں، لمحوں کی آہٹ مجھے سنواتی ہے حسرتوں و تمنا کے پھول تھما کر چلی جاتی ہے یہ کہ کر میں پھر ملوں گی- آج ملی ہے پھر مجھ سے ایسے کہ مج...
Comments
Post a Comment